ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آپریشن کمل کے پھر ناکام ہونے کے خدشات سے بی جے پی پر دہشت،باغی کانگریس لیڈر رمیش جارکی ہولی کی تائید میں صرف چار اراکین اسمبلی

آپریشن کمل کے پھر ناکام ہونے کے خدشات سے بی جے پی پر دہشت،باغی کانگریس لیڈر رمیش جارکی ہولی کی تائید میں صرف چار اراکین اسمبلی

Wed, 02 Jan 2019 00:36:28    S.O. News Service

بنگلورو، یکم جنوری(ایس او نیوز) ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی برگشتہ کانگریس اراکین اسمبلی کے بھروسے مستعد نظر آرہی ہے، لیکن برگشتہ اراکین اسمبلی میں سے بعض کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بار پھر اس حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی کی کوشش کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ متعددکانگریس اراکین اسمبلی وزارت نہ ملنے کے باوجود اس موقف میں نہیں ہیں کہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیں اور دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنے کا جوکھم اٹھائیں۔

اسی لئے ان لوگوں کی طرف سے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کی حد تک بغاوت کو مشکل سمجھاجارہاہے۔ حالانکہ سابق وزیر رمیش جارکی ہولی کی قیادت میں بی جے پی سے رابط کرنے کے لئے کانگریس اراکین اسمبلی پر زور دیا جارہا ہے، لیکن سوائے رمیش کے اراکین اسمبلی کی اکثریت نے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ یا ریاستی صدر یڈیورپا سے ملاقات کرنے اور کسی بھی طرح سے آپریشن کمل کا شکار ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

بی جے پی دعویٰ کررہی ہے کہ 14جنوری تک ریاست کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئے گی اور بی جے پی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ لیکن بیشتر کانگریس اراکین اسمبلی کی طرف سے اپنی وفاداری بدلنے سے صاف انکار کو دیکھتے ہوئے بی جے پی قیادت بھی حکومت سازی کا جوکھم اتنی آسانی سے لینے کے لئے تیار نہیں ۔کہا جاتا ہے کہ دہلی میں بی جے پی کے مرکزی قائدین نے یڈیورپا اور رمیش جارکی ہولی کو دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ جو اراکین اسمبلی بی جے پی کے خیمے میں آنا چاہتے ہیں ان تمام سے پہلے استعفیٰ لیا جائے اور بعد میں آپریشن کمل کے بارے میں بات چیت ہو۔ رمیش جارکی ہولی نے دعویٰ کیا تھاکہ انہیں جملہ 19 اراکین اسمبلی کی تائید حاصل ہے۔

مہاراشٹرا میں بی جے پی کے لیڈر اور وزیر مالگزاری چندراکانت پاٹل کے ذریعے رمیش جارکی ہولی نے بی جے پی کی مرکزی قیادت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان کی مرکزی وزراء پرکاش جاؤڈیکر اور پیوش گوئل سے بات چیت بھی ہوئی ہے۔ تاہم مرکزی قیادت کے اس موقف پر کہ جب تک کہ تمام 19اراکین اسمبلی اپنا استعفیٰ یڈیورپا کو نہیں سونپتے اس وقت تک مخلوط حکومت کو گرانے کی کوئی حماقت نہیں کی جائے گی۔

بی جے پی کی مرکزی قیادت نے رمیش جارکی ہولی کے ساتھ جس طرح کا رویہ اپنایا ہے اور ساتھ ہی استعفے کے لئے جس طرح کی شرط رکھی ہے وہ بیشتر اراکین اسمبلی کو منظور نہیں ہے۔ 19میں سے 15اراکین اسمبلی ایسے ہیں جنہوں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔ جارکی ہولی کے حق میں اب صرف چار اراکین اسمبلی رہ گئے ہیں۔ ان میں پرتاب گوڈا پاٹل، بی ناگیندرا، آنند سنگھ اور مہیش کمٹلی شامل ہیں۔ ان چاروں اراکین اسمبلی کا استعفیٰ بھی بی جے پی کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں ہوگا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے رمیش جارکی ہولی نے بی جے پی قیادت سے سنکرانتی تہوار تک کا وقت طلب کیا ہے تاکہ اراکین اسمبلی کو اپنی طرف کرنے کی ایک اور کوشش کرسکیں تو دوسری طرف یہ بھی کہاجارہا ہے کہ وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار ، وزیر داخلہ ایم بی پاٹل اور دیگر کانگریس قائدین نے متعدد بی جے پی اراکین اسمبلی کو استعفوں کے لئے راضی کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔آپریشن کمل کے جواب میں آپریشن ہاتھ کا شکار ہوکر اگر بی جے پی اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا تو حکومت قائم کرنے کے لئے یڈیورپا کی تمام امیدوں پر پانی پھر جانے کے خدشات نے بھی بی جے پی کے خیموں میں دہشت طاری کردی ہے۔


Share: